اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی مسلح افواج کے سپہ سالار نے اپنے شامی ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو درپیش عالمی پابندیوں کے باوجود ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شامی قوم اور حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں.
یہ بات میجر جنرل 'محمد باقری' نے بدھ کے روز شامی دارالحکومت 'دمشق' کے دورے کے موقع پر اپنے شامی ہم منصب لیفٹیننٹ جنرل 'علی ایوب' کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ ناجائز صہیونی ریاست کی جانب سے شام پر فضائی اور زمینی جارحیت کو ہرگز قبول نہیں کریں گے.
جنرل باقری نے کہا کہ آج وہ شام کے دورے پر ہیں جس کا مقصد دنیا کو بتانا ہے کہ دونوں ممالک دہشتگردی کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں.
ایران اور شام کے درمیان 40 سال قریبی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ شام کی جغرافیائی سالمیت کا احترام ایران کی اصل ترجیح ہے.
انہوں نے انتباہ کیا ہے کہ اگر کسی ملک نے کسی دوسرے ملک میں فوجی آپریشن کرنا ہو تو سب سے پہلے اس ملک کی باضابطہ اجازت لینی ہوگی اور اس کی جغرافیائی سالمیت کا بھی احترام کرنا ہے.
ایرانی مسلح افواج کے سپہ سالار نے عراق کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عراقی پارلیمنٹ اور مسلح افواج کے بروقت اقدامات سے اس وقت عراق میں حالات کنٹرول میں ہے.
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ عراقی علاقے کردستان کے صدر مسعود بارزانی مستقبل میں اپنی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے.
میجر جنرل محمد باقری نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے شامی ہم منصب کے ساتھ مستقبل میں دوطرفہ فوجی اور عسکری تعاون کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا.
اس پریس کانفرنس کے دوران شامی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا کہ تہران اور دمشق کے درمیان سٹریٹجک تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک انسداد دہشتگردی پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ شام میں دہشتگردوں کا صفایا آخری مرحلے میں ہے اور امریکہ کی جانب سے ان عناصر کو مدد فراہم کرنے سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲